ایران پر حملے نے خلیجی ممالک کی سلامتی کو متاثر کیا ہے، چینی وزیر خا رجہ

چین اور پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں امن کی بحالی کیلئےاعلامیہ جاری کیا ہے، وانگ ای کی سعودی ہم منصب سے گفتگو

بیجنگ (ویب ڈیسک) چین کے وزیر خارجہ وانگ ای نے دعوت پر سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان السعود کے ساتھ پر فون پر گفتگو کی۔جمعہ کے روز سعودی وزیر خارجہ نے مشرق وسطیٰ کی تازہ ترین پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے تنازع نے خطے اور دنیا بھر کے ممالک پر شدید اثرات مرتب کیے ہیں۔ سعودی عرب بین الاقوامی امور میں چین کے ادا کردہ اہم کردار کی قدر کرتا ہے، اور چین اور سعودی عرب کے درمیان اعلیٰ سطحی تزویراتی تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ان کا ملک اقوام متحدہ جیسے پلیٹ فارمز پر چین کے ساتھ روابط اور تعاون کو مضبوط کرنے کی امید کرتا ہے تاکہ کشیدگی کو کم کرنے اور تنازعات کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششیں کی جا سکیں ۔

وانگ ای نے کہا کہ ایران پر امریکی و اسرائیلی حملے کو ایک ماہ سے زائد کا عرصہ ہو چکا ہے جس میں بہت زیادہ جانی اور مالی نقصان ہوا ہے، اور اس نےسعودی عرب سمیت دیگر خلیجی ممالک کی سلامتی اور استحکام کو متاثر کیا ہے جس پر چین کو بے حد تشویش ہے۔انہوں نے کہا کہ چین اور پاکستان نے حال ہی میں خلیج اور مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے مشترکہ طور پر ایک پانچ نکاتی اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں خلیجی ریاستوں کی خودمختاری اور سلامتی کا تحفظ، شہریوں اور غیر فوجی اہداف پر حملے بند کرنا اور جہاز رانی کے راستوں کی حفاظت کو یقینی بنانا شامل ہے۔

چینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی میں رکاوٹیں اس تنازع کا ایک حصہ ہے اور جب تک تنازع جاری رہے گا آبنائے ہرمز پرامن نہیں ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت فوری ضرورت جنگ بندی کا حصول اور تنازعات کا جلد از جلد خاتمہ ہے ۔وانگ ای نے کہا کہ چین امن کو فروغ دینے اور جنگ کے خاتمے کے لیے سعودی عرب کے عزم کو سراہتا ہے اور جلد از جلد علاقائی امن کی بحالی کے لیے سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔

Comments (0)
Add Comment