تائیوان سے بیجنگ تک سڑک کے ذریعے سفر ، ایک قابلِ توقع منظر

بیجنگ (ویب ڈیسک) دونوں سیاسی جماعتوں کے تعلقات اور آبنائے تائیوان کے دونوں کناروں کے تعلقات کی پرامن ترقی کو فروغ دینے کے لیے سی پی سی مرکزی کمیٹی اور جنرل سیکرٹری شی جن پھنگ کی دعوت پر گو من دانگ پارٹی کی چیئرپرسن زنگ لی وِین کی قیادت میں 7 سے 12 اپریل تک گو من دانگ پارٹی کا وفد جیانگ سو، شنگھائی اور بیجنگ کا دورہ کرے گا۔ اس پر ، زنگ لی وین نے شکریہ ادا کرتے ہوئے خوشی سے دعوت قبول کر لی۔ فریقین کے درمیان دوستانہ رابطہ اور باہمی تبادلے اور تعاون آبنائے تائیوان میں امن و استحکام کو فروغ دینے، دونوں کناروں کےعوام کی فلاح و بہبود کو بہتر بنانے، اور قومی نشاۃ ثانیہ کے عظیم مستقبل کے لیے مددگار ہیں۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ آبنائے تائیوان کے دونوں کناروں کے درمیان رابطے ، تبادلے اور تعاون کی گہرائی کے ساتھ،آبائی گھر کی جانب لے جانے والی شاہراہ کا آخری مرحلہ بھی مکمل ہو جائے گا اور ” تائیوان سے سیدھا بیجنگ تک اپنی گاڑی میں سفر ” ایک وژن سے حقیقت بن جائے گا۔ گزشتہ کئی برسوں سے، گو من دانگ پارٹی اور کمیونسٹ پارٹی آف چائنا نے انیس سو بانوے کے اتفاق رائے پر قائم رہتے ہوئے اور "تائیوان کی علیحدگی” کی مخالفت کو مشترکہ سیاسی بنیاد بناتے ہوئے، دونوں کناروں کے درمیان تبادلہ و تعاون کو فروغ دیا ہے۔

آبنائے تائیوان میں امن و استحکام برقرار رکھنے اور دونوں کناروں کے ہم وطنوں کی خاندانی محبت اور فلاح و بہبود کو بڑھانے کے لیے پرعزم رہے ہیں۔گزشتہ سال اکتوبر میں زنگ لی وین کے گومن دانگ کی چیئرپرسن منتخب ہونے کے بعد سے دونوں جماعتوں کی اعلیٰ قیادت کے درمیان تہنیتی پیغامات سمیت مختلف ذرائع سے خوشگوار رابطہ برقرار ہے، اور گو من دانگ وفد کا مذکورہ دورہ اس مثبت رجحان کو مزید مستحکم کرے گا۔مین لینڈ ہمیشہ تائیوان کے ہم وطنوں کی روزمرہ زندگی اور فلاح و بہبود کے بارے میں فکر مند رہا ہے، اور پرامن وحدت کے امکانات کو اجاگر کرتے ہوئے اس نے تائیوان کے لیے "سات بہتر”مواقع واضح طور پر پیش کیے ہیں: بہتر اقتصادی ترقی، بہتر توانائی اور وسائل کی حفاظت، بہتر انفراسٹرکچر کی تعمیر، بہتر سیکورٹی ضمانتیں، بہتر غیر ملکی تبادلے، بہتر عوامی فلاح و بہبود اور بہتر روحانی و ثقافتی زندگی۔ معاشی ترقی کے حوالے سے، تائیوان مین لینڈ کی سپر بڑی مارکیٹ اور صنعتی فوائد کو اپنی سائنس، ٹیکنالوجی اور ٹیلنٹ کی مہارت کے ساتھ ملا کر دوبارہ معاشی ترقی حاصل کر سکتا ہے۔ غیر ملکی تبادلے کے حوالے سے، مضبوط مادر وطن کی حمایت سے، تائیوان کے ہم وطن بین الاقوامی سطح پر زیادہ اعتماد اور وقار حاصل کریں گے۔ انفراسٹرکچر کے لحاظ سے، مین لینڈ کی عالمی معیار کی انفراسٹرکچر تعمیراتی صلاحیتوں پر انحصار کرتے ہوئے، تائیوان کی ٹرانسپورٹیشن، توانائی اور دیگر سہولیات کو جامع طور پر اپ گریڈ کیا جائے گا۔

بیجنگ۔تائیوان ایکسپریس وے کا مین لینڈ حصہ مکمل طور پر کھول دیا گیا ہے جو بیجنگ سے جنوبی صوبہ فوجیان کی کاؤنٹی پھنگ تھان تک پہنچتا ہے اور مستقبل میں سمندر پار کوریڈور کی تکمیل کے بعد ، "تائیوان سے بیجنگ تک ڈرائیونگ” کاخواب پورا ہو جائے گا۔دونوں کناروں کے عوام خونی رشتے سے جڑے ہوئے ہیں، اور باہمی روابط کو مضبوط بنانا بہت سے تائیوان کے عوام کی خواہش ہے۔رواں سال کے آغاز تک،مین لینڈ کے ساحلی شہر جیسے شیا من،چھوان زو،فو زو اور تائیوان کے جن من اور ما زو کے درمیان مسافر روٹ سے مجموعی طور پر 26 ملین سے زائد سفری ٹرپس ہو چکے ہیں ۔ زیرتعمیر شیا من –جن من پل کے حوالے سے ، جن من کے عوام کو خاصی توقعات وابستہ ہیں اور اس پل کی تکمیل کے بعد وہ گاڑی کے ذریعے مین لینڈ کے وسیع علاقوں کی سیر کے خواہاں ہیں۔تاہم، عوامی فلاح و بہبود اور معاش کے ان واضح مواقع کے باوجود، ڈی پی پی انتظامیہ نام نہاد "سکیورٹی خدشات ” کو جواز بنا کر بارہا رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے ۔ جزیرے کو درپیش "بجلی کی کمی” "ٹیلنٹ کی کمی” اور "انفراسٹرکچر کی کمی” جیسے ترقیاتی مسائل کے باوجود، لائی چھنگ دہ انتظامیہ نہ تو ان مسائل کو حل کرنے کی خواہش رکھتی ہے اور نہ ہی اس کی پاس یہ صلاحیت ہے،اس کے برعکس وہ تاریخ کو مسخ کرتے ہوئے "جاپان نواز اور تائیوان فروشی” جیسے اقدامات میں مصروف ہے، حتیٰ کہ "تائیوان کو کھوکھلا” کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جا رہا ، تاکہ اپنے "تائیوان کی علیحدگی” کے خیالی خواب کے لیے بیرونی قوتوں کی حمایت حاصل کی جا سکے۔ آبنائے تائیوان کے دونوں کناروں کے ہم وطن ایک ہی چینی قوم سے تعلق رکھتے ہیں اور ایک ہی آباؤ اجداد کی اولاد ہیں۔

تاریخ کے دھارے کو آگے بڑھنے سے نہیں روکا جا سکتا اور نہ ہی چینی قوم کی عظیم نشاۃ ثانیہ کو روکا جا سکتا ہے ۔تاریخی رجحان کے خلاف کوئی بھی "تائیوان کی علیحدگی” کا عمل ، نہ صرف تائیوان کے عوام کی فلاح و بہبود کو شدید نقصان پہنچائے گا بلکہ وقت کی دھول میں گم ہو جائے گا۔ صرف ایک چین کے اصول پر قائم رہتے ہوئے اور باہمی تبادلے و تعاون کو فروغ دے کر ہی دونوں کناروں کے درمیان امن، خوشحالی اور مشترکہ مستقبل کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

Comments (0)
Add Comment