چین کی جدت: عوامی فلاح اور عالمی ترقی کا ذریعہ

بیجنگ (ویب ڈیسک) چائنا ڈیولپمنٹ فورم 2026 کا سالانہ اجلاس حال ہی میں منعقد ہوا، جس میں دنیا بھر سے تقریباً 100 ملٹی نیشنل کمپنیوں کے سربراہان نے شرکت کی۔ سیمنز، شنائیڈر الیکٹرک اور روش سمیت متعدد کمپنیوں نے چین میں کاروباری توسیع کے نئے منصوبوں کا اعلان کیا، جن میں عالمی سائنس و ٹیکنالوجی کانفرنس کا انعقاد، تحقیق و ترقی کے مراکز کی اپ گریڈنگ، اور جدت کو فروغ دینے والی سہولیات کا قیام شامل ہے۔ چین میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے تازہ ترین اقدامات واضح طور پر ظاہر کرتے ہیں کہ چین ایک اہم عالمی پیداواری مرکز سے جدت کے ایک ناگزیر مقام میں تبدیل ہو رہا ہے۔

اعداد و شمار بھی اس رجحان کو ثابت کرتے ہیں: 2026 کے پہلے دو مہینوں میں، چین کی ہائی ٹیک صنعتوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے حقیقی استعمال میں سال بہ سال 20 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا، خاص طور پر تحقیق و ترقی اور ڈیزائن سروسز کے شعبے میں 171.8 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا۔ بوش گروپ نے انکشاف کیا کہ چین میں اس کے اسمارٹ موبیلٹی کاروبار کا تقریباً 70 فیصد مقامی چینی کمپنیوں کے ساتھ تعاون سے آتا ہے، جبکہ چین میں تیار ہونے والی جدید ٹیکنالوجیز کو عالمی منڈیوں میں بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔ مختلف شعبوں میں ایجادات کے حوالے سے چین کی پیٹنٹ درخواستیں کئی سالوں سے دنیا میں پہلے نمبر پر رہی ہیں، اور یہ دنیا کا پہلا ملک بھی ہے جس نے 5 ملین سے زائد ایجادات کے ملکی پیٹنٹس حاصل کیے ہیں۔

"چودھویں پانچ سالہ منصوبہ” کے دوران، چین میں تحقیق و ترقی میں سرمایہ کاری کی شرح 2.8 فیصد تھی۔ آئندہ پانچ سالوں میں، چین میں تحقیق و ترقی کی سرمایہ کاری کی اوسط سالانہ نمو 7 فیصد سے زیادہ ہو جائے گی ، یوں سائنسی و تکنیکی جدت کو چینی طرز کی جدید کاری کے مرکز میں رکھا گیا ہے۔ بوش گروپ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چیئرمین اسٹیفن ہارٹنگ کا کہنا ہے کہ ” نئی ٹیکنالوجیز کا تیزی سے استعمال، نئی مصنوعات کا مارکیٹ میں تیزی سے تعارف، اور زندگی کے تمام شعبوں کی تیز رفتار ترقی،یہ چین کی منفرد ترقیاتی خصوصیات ہیں، جو اس کے جدت پر مبنی ماحول کی عکاسی کرتی ہیں "۔جدت کی وجہ سے نئی ٹیکنالوجیز، نئی مصنوعات اور نئی منڈیاں سامنے آتی ہیں۔

چین کی سپر لارج مارکیٹ میں جدت کی زبردست قوت پیدا ہونے سے یقیناً مزید قیمتی مواقع پیدا ہوں گے۔ مکمل صنعتی اور سپلائی چین ، وافر انسانی وسائل اور پختہ جدت طرازی چین کے نئے بزنس کارڈز بنتے جا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، مارکیٹ تک رسائی کو آسان بنانا، کاروباری ماحول کو بہتر بنانا، دانشورانہ املاک کے تحفظ کو مضبوط کرنا، عالمی تکنیکی حکمرانی میں فعال شرکت کرنا اور پالیسیوں کا استحکام، یہ تمام عوامل عالمی سرمایہ کاروں کے لیے اعتماد فراہم کرتے ہیں۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ "ہمہ گیر اشتراک” چین کی اختراعی ترقی کا سب سے خاص رنگ ہے۔ جیسا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز جو ہم روزانہ استعمال کرتے ہیں، ان میں بزرگوں کے لیے خصوصی سیکشن رکھے گئے ہیں، جو سمجھنے اور استعمال کرنے میں نسبتاً آسان ہیں، اور یوں بزرگ افراد بھی آسانی سے آن لائن خریداری کر سکتے ہیں۔

ڈرونز کی بات کریں ،تو یہ نہ صرف تصاویر لے سکتے ہیں بلکہ کسانوں کو زرعی کیمیکل چھڑکنے، بیج بونے، اور زرعی مصنوعات کی نقل و حمل میں بھی مدد دیتے ہیں، جس سے بہت سے زرعی مسائل حل ہو جاتے ہیں۔ یہ اس امر کی واضح عکاسی ہے کہ چین کی جدت کبھی بھی کسی خاص”اعلیٰ” طبقے تک محدود نہیں رہی، بلکہ روزمرہ زندگی کے قریب ہے، سب کی خدمت کرتی ہے، اور ہر ایک کی زندگی کی سہولت اور خوشحالی کے لیے پرعزم ہے۔

مزید برآں، شمولیت کا یہ تصور صرف چینی لوگوں تک محدود نہیں بلکہ دنیا تک بھی پھیل رہا ہے اور زیادہ سے زیادہ ممالک اور لوگوں کو فائدہ پہنچا رہا ہے۔چین کی جانب سے اہم سائنسی و تکنیکی انفراسٹرکچر کا اشتراک کیا جا رہا ہے، اور ترقی پذیر ممالک کے لیے موزوں ٹیکنالوجیز کے فروغ اور اطلاق کو بڑھایا جا رہا ہے۔ چین اپنے شراکت داروں کے ساتھ جدت کے مواقع بانٹے میں کھلا رویہ اپنائے ہوئے ہے،جس سے دیگر ممالک کو اپنی برتریوں کو ترقیاتی کامیابیوں میں بدلنے میں مدد ملی ہے۔غیر یقینی عالمی صورتحال کے پیش نظر، چین میں جدت طرازی کےمتحرک ماحول، مستحکم پالیسی توقعات اور جامع ترقی کے تصور نے دنیا کو ایک واضح پیغام دیا ہے: کھلا پن، تعاون اور مشترکہ ترقی ہی ایک بہتر اور ہمہ گیر مستقبل کی ضمانت ہے۔

Comments (0)
Add Comment