چین کا ایران کے خلاف فوجی آپریشن بند کرنے کا مطالبہ

چین اور امریکہ دونوں بڑی طاقتیں ہیں، چینی وزیر خارجہ

بیجنگ (ویب ڈیسک) چین کی 14 ویں قومی عوامی کانگریس کے چوتھے اجلاس کے دوران چین کی سفارت کاری کے موضوع پر ایک پریس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔اتوار کے روز سی پی سی سینٹرل کمیٹی کے سیاسی بیورو کے رکن اورچینی وزیر خارجہ وانگ ای نے چینی اور غیر ملکی صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیئے۔وانگ ای نے کہا کہ چینی صدر شی جن پھنگ کی رہنمائی میں چین کی سفارت کاری نے ایک ہنگامہ خیز دنیا کو انتہائی قیمتی استحکام اور یقین فراہم کیا ہے۔

چین دوسرے ممالک کے ساتھ مل کر بنی نوع انسان کے ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کے عظیم نصب العین کی جانب امن، ترقی، تعاون اور مشترکہ کامیابیوں کے نئے باب رقم کرنے کے لیے تیار ہے۔ایران کی صورتحال کے بارے میں وانگ ای نے کہا کہ یہ ایک ایسی جنگ ہے جو کبھی نہیں ہونی چاہیے تھی اور اس سے کسی بھی فریق کو فائدہ نہیں ہو گا۔ چین ایک بار پھر مطالبہ کرتا ہے کہ صورتحال کے مزید بگاڑ اور تنازعات کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے فوری طور پر فوجی آپریشن بند کیا جائے۔

چین کا ماننا ہے کہ ایران اور مشرق وسطیٰ سے متعلق مسائل کو درست اور مناسب طریقے سے حل کرنے کے لیے چار بنیادی اصولوں پر عمل کرنا ہوگا، یعنی قومی خودمختاری کا احترام، طاقت کے غلط استعمال سے گریز، اندرونی معاملات میں عدم مداخلت اور اہم مسائل کا سیاسی حل۔ اقوام متحدہ کے قائدانہ کردار کو برقرار رکھا جانا چاہیے اور اسے متزلزل نہیں کیا جا سکتا۔چین امریکہ تعلقات کے حوالے سے وانگ ای نے کہا کہ چین اور امریکہ دونوں بڑی طاقتیں ہیں اور ایک دوسرے کو تبدیل نہیں کر سکتے، لیکن وہ اپنے باہمی روابط کے طریقہ کار کو بدل سکتے ہیں۔ یعنی باہمی احترام کے رویے کو برقرار رکھنے اور پرامن بقائے باہمی کی نچلی لائن کی حفاظت کرنے کی بنیاد پر تعاون اور جیت جیت کے امکانات کے لیے کوشش کی جائے۔

رواں سال چین امریکہ تعلقات کے لیے ایک "بڑا سال” ہے۔ اس وقت فریقین اعلیٰ سطح کے تبادلوں کے لیے پوری تیاریاں کر رہے ہیں اور ضرورت اس بات کی ہے کہ فریقین مل کر مناسب ماحول پیدا کریں اور موجودہ اختلافات کو کنٹرول کرتے ہوئے غیر ضروری مداخلت کو دور کریں۔چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے پریس کانفرنس میں کہا کہ گلوبل ساؤتھ کا اجتماعی عروج دنیا میں ہونے والی عظیم تبدیلیوں کی واضح علامت ہے اور ایک کثیر قطبی دنیا کے عمل کو فروغ دینے کے لیے اہم محرک ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 70 سالوں کے دوران چین افریقہ دوستی بین الاقوامی صورتحال میں تبدیلیوں کی تمام آزمائشوں پر پوری اتر چکی ہے اوراس کی مضبوط قوت کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔

اس سال چین-افریقہ تعلقات میں نئی پیش رفت کا ایک سلسلہ دیکھنے کو ملے گا، چین یکم مئی سے ٹیرف لسٹ میں شامل تمام افریقی مصنوعات پر صفر ٹیرف لاگو کرےگا۔ ” افرادی و ثقافتی تبادلے کا چین-افریقہ سال” شروع ہو گیا ہے، جس میں سال بھر میں تقریباً 600 رنگارنگ سرگرمیاں منعقد کی جائیں گی۔ وانگ ای نے کہا کہ مسئلہ فلسطین کا ایک ہی عالمی طور پر منظور شدہ اور معقول حل ہے یعنی دو ریاستی حل۔ ایک ذمہ دار بڑی طاقت کے طور پر چین ہمیشہ کی طرح، جائز قومی حقوق کے حصول کے لیے کوششوں میں فلسطین کی حمایت کرتا رہےگا اور عالمی برادری پر زور دے گا کہ وہ فلسطینی عوام کو انصاف فراہم کرے۔چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے کہا کہ چین-جاپان تعلقات کا مستقبل جاپان کے انتخاب پر منحصر ہے۔

گزشتہ سال جاپانی جارحیت کے خلاف چینی عوام کی مزاحمتی جنگ کی فتح کی 80ویں سالگرہ منائی گئی۔ اس موقع پر جاپان کو ماضی میں غلط راستے کے انتخاب پر گہرائی سے خود احتسابی کرنی چاہیے تھی، لیکن موجودہ جاپانی رہنما نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر تائیوان کو کچھ ہوا تو یہ "جاپان کی بقاء کے بحران” کی صورتحال بن جائے گی اور جاپان اپنے نام نہاد حق دفاع کو استعمال کر سکتا ہے۔ وانگ ای نے کہا کہ تائیوان کا معاملہ چین کا اندرونی معاملہ ہے، اس میں جاپان کو مداخلت کا کیا حق ہے؟ اگر تائیوان کو کچھ ہوتا ہے تو جاپان کو اپنے دفاع کا حق استعمال کرنے کا کیا حق ہے؟ کیا نام نہاد اجتماعی دفاع کے حق کا مطلب امن پسند آئین کو کھوکھلا کرنا ہے جو جنگ چھیڑنے کے حق سے دستبردار ہونے کی شرط رکھتا ہے؟

یہ ذہن میں رکھتے ہوئے کہ کس طرح جاپانی عسکریت پسندی نے دوسرے ممالک کے خلاف جارحیت شروع کرنے کے لیے "بقاء کے بحران” کا بہانہ استعمال کیا تھا، چین اور دیگر ایشیائی ممالک کے لوگوں کو بہت زیادہ چوکنا رہنا ہوگا کہ جاپان کس سمت جا رہا ہے؟ چین جو مضبوط اور طاقتور ہو چکا ہے، اور اس کے 1.4 بلین لوگ، کبھی بھی کسی کو استعمار کی حمایت یا جارحیت کی بحالی کی اجازت نہیں دیں گے۔ وانگ ای نے اس بات پر زور دیا کہ تائیوان قدیم زمانے سے ہی چین کا علاقہ رہا ہے، اور اس بات کا قطعاً کوئی امکان نہیں ہے کہ یہ ماضی، حال یا مستقبل میں کوئی علیحدہ "ملک” بن جائے۔

تائیوان کی چین واپسی جاپانی جارحیت کے خلاف مزاحمتی جنگ میں چینی عوام کی فتح کا نتیجہ تھی اور یہ دوسری جنگ عظیم میں فتح کا ثمر بھی تھا۔ بین الاقوامی قانونی دستاویزات کی ایک سیریز، بشمول قاہرہ اعلامیہ، پوٹسڈیم اعلامیہ،جاپان کے ہتھیار ڈالنے کی دستاویز اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد 2758، نے تائیوان کی حیثیت کو مضبوطی سےواضح کیا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر "دو چین” یا "ایک چین، ایک تائیوان” بنانے کی کوئی بھی کوشش ناکامی سے دوچار ہوگی۔

Comments (0)
Add Comment