چین عالمی اقتصادی گردش کو مزید فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے
بیجنگ (ویب ڈیسک) چینی حکومت نے 2026 کی حکومتی ورک رپورٹ غور کے لیے قومی عوامی کانگریس میں پیش کی۔ رپورٹ میں پندرہویں پانچ سالہ منصوبے کے ابتدائی سال میں متوقع جی ڈی پی نمو کا ہدف 4.5 سے 5 فیصد مقرر کیا گیا، جبکہ عملی کام کے دوران اس سے بہتر نتائج حاصل کرنے کی کوشش پر بھی زور دیا گیا ہے۔ یہ رپورٹ اعلیٰ معیار کی ترقی کے فروغ کو اجاگر کرتی ہے،اور اس سے دنیا کو کون سے نئے مواقع ملیں گے؟اعلیٰ معیار کی معاشی ترقی کا ایک اہم مظہر کھپت پر مبنی تبدیلی ہے۔
رپورٹ میں شہری اور دیہی باشندوں کی آمدنی بڑھانے کے منصوبے، اشیائے صرف کو فروغ دینے ، خدمات کے معیار کو بہتر بنانے اور "چین میں خریداری” کے برانڈ کو فروغ دینے جیسے متعدد اقدامات پیش کیے گئے ، جو دنیا کو چین کی وسیع مارکیٹ سے فائدہ اٹھانے کے مزید مواقع فراہم کریں گے۔ رپورٹ میں "اسمارٹ معیشت کی نئی شکل قائم کرنے” کی تجویز دی گئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی لیبارٹری سے نکل کر مارکیٹ میں داخل ہو گی اور اس کی صنعتی و بڑے پیمانے پر اطلاقی ترقی متوقع ہے۔
اسی دوران حکومتی ورک رپورٹ میں خدمات کے شعبے کو مرکز بناتے ہوئے مارکیٹ تک رسائی اور کھلے پن کے شعبوں میں توسیع، دو طرفہ سرمایہ کاری کے تعاون میں اضافہ، غیر ملکی تجارت کے حجم کو مستحکم رکھنے اور اس کے ڈھانچے کو بہتر بنانے، اور "بیلٹ اینڈ روڈ” کی اعلیٰ معیار کی مشترکہ تعمیر جیسے اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ چین ادارہ جاتی نوعیت کے کھلے پن کو بتدریج وسعت دینے اور عالمی اقتصادی گردش کو مزید فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔ کئی بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کا خیال ہے کہ جب دنیا میں تحفظ پسندی میں اضافہ ہو رہا ہے، ایسے وقت میں چین کا اعلیٰ سطح کے کھلے پن کو بڑھانا کثیر قطبی دنیا میں باہمی فائدے اور مشترکہ ترقی کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔