چین کے بدعنوانی کے خلاف اقدامات کی عالمی اہمیت

بیجنگ (ویب ڈیسک) کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کے 20ویں مرکزی انضباطی معائنہ کمیشن کا پانچواں کل رکنی اجلاس بیجنگ میں منعقد ہوا۔ ہر سال کے آغاز میں منعقد ہونے والا یہ اجلاس بیرونی دنیا کے لیے چین کے انسداد بدعنوانی کے رجحانات کا مشاہدہ کرنے کا ایک اہم موقع ہے۔ اس اجلاس میں موجودہ بدعنوانی کے خلاف صورتحال کا تجزیہ، اور اگلے مرحلے کے کام کی مجموعی منصوبہ بندی پر بات کی جاتی ہے ، یہی وجہ ہے کہ یہ اجلاس مختلف حلقوں میں خصوصی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔عالمگیریت کے اس دور میں، کسی بھی بڑے ملک کی داخلی طرز حکمرانی میں تبدیلیوں کے اثرات بین الاقوامی معیشت اور سیاست کی جھیل میں لہروں کی طرح پھیل جاتے ہیں۔

چین کی جانب سے بدعنوانی کے خلاف کئی سالہ جدوجہد محض ملکی سیاسی ایجنڈے سے آگے بڑھ چکی ہے۔ اس جنگ کا سب سے نمایاں بیرونی پہلو، جسے چینی رہنما نے ” نہ ہارنے والی جنگ ” کہا ہے، عالمی کاروباری قواعد کی از سر نو ترتیب ہے۔ جب کوئی ملٹی نیشنل کمپنی چین میں سرمایہ کاری کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرتی ہے ، تو کاروباری ماحول ، اس کے ریگولیٹری نظام کی شفافیت اور پیش گوئی کی صلاحیت اکثر ترجیحی پالیسیوں سے زیادہ اہم ہوتی ہے۔ عالمی بنک کی جانب سے 2023 میں پیش کردہ کاروباری ماحول کے جائزہ کے مطابق، چین میں تنازعات کے حل اور کراس بارڈر تجارت کی سہولت کاری جیسے شعبوں میں تشخیصی اعداد و شمار میں مسلسل بہتری دیکھی گئی ہے اور ان اشاریوں میں مسلسل بہتری اینٹی کرپشن سسٹم کی گہرائی سے نمایاں طور پر منسلک ہے۔

یہ محض اتفاق نہیں بلکہ ادارہ جاتی اصلاحات کا "اسپل اوور ایفیکٹ” ہے۔طویل عرصے سے مغربی علمی حلقوں میں یہ تصور عام رہا ہے کہ یک جماعتی حکومتی نظام کے لیے مؤثر خود نگرانی حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے۔ چین کی جانب سے بدعنوانی کے خلاف اقدامات، خاص طور پر نگرانی کے نظام کی اصلاح اور معائنہ نظام کو معمول کا حصہ بنانا، اس تصور کے برعکس ایک نئی مثال فراہم کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ، چین متعلقہ شعبوں میں بین الاقوامی تعاون کو مسلسل طور پر فروغ دیتا چلا آ رہا ہے۔ اگرچہ ہر ملک کے سیاسی نظام مختلف ہیں، تکنیکی طریقے – جیسے بگ ڈیٹا کے ذریعے غیر معمولی مالی بہاؤ کی نگرانی اور کثیر شعبہ جاتی مشترکہ کیس ہینڈلنگ میکانزم قائم کرنا – بین الاقوامی انسداد بدعنوانی آپریشنز کے لیے زیادہ مؤثر ہوتے جا رہے ہیں۔

تاریخی نقطہ نظر سے، بڑی طاقتوں کے عروج کے ساتھ اکثر ان کی حکمرانی کے ماڈلز کا پھیلاؤ یا مکالمہ بھی سامنے آتا ہے۔ انیسویں صدی میں برطانیہ نے پارلیمانی نظاموں اور سمندر کے قانون کے عالمی سطح پر فروغ میں کردار ادا کیا، اور بیسویں صدی میں امریکہ نے آزاد عدلیہ اور اختیارات کے توازن کے تصور کو فروغ دیا۔ اکیسویں صدی میں چین کی بدعنوانی کے خلاف مہم شاید ایک اور قسم کے ادارہ جاتی مکالمے کی تشکیل دے رہی ہے – یہ سیاسی نظاموں کی نقل سے متعلق نہیں، لیکن یہ دکھاتا ہے کہ ترقی کی رفتار کو برقرار رکھتے ہوئے اختیارات کے غلط استعمال کو منظم طریقے سے کیسے روکا جا سکتا ہے ۔ اس جدوجہد کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ یہ ظاہر کرتی ہے کہ پیچیدہ معاشرہ کس طرح بدعنوانی کی قدیم بیماری کا مسلسل ادارہ جاتی مقابلے کے ذریعے جواب دے سکتا ہے۔ چین کا نقطہ نظر نہ تو "سخت سزا اور سخت قوانین” ہے اور نہ ہی مغربی "اختیارات کی تقسیم” کی نقل ہے، بلکہ ایک ایسا ادارہ جاتی راستہ تلاش کرنے کی جدوجہد ہے جو تاریخی روایات اور عملی ضروریات کو مدنظر رکھتا ہو – "حکمران جماعت کی خود نگرانی اور قومی نگرانی کے نظام کا باہمی امتزاج، مہماتی تطہیر کی مہم اور معمول کے انتظام کی ہم آہنگی” ۔

آج کے عالمگیریت کے دور میں، بڑی طاقتوں کی طرز حکمرانی میں ہر اہم فیصلے کے اثرات پوری دنیا میں پھیل جاتے ہیں۔ چین کی جانب سے جاری انسداد بدعنوانی جدوجہد نے ملکی اقتصادی آپریشن کی رکاوٹوں کی لاگت کو نمایاں طور پر کم کیا ہے، جبکہ عالمی سپلائی چینز کی مضبوطی اور استحکام کو معروضی طور پر بڑھایا ہے، جو اس بات کی وضاحت کر سکتا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے کئی رپورٹس میں چین کی حکمرانی کی صلاحیت میں بہتری کو عالمی اقتصادی ترقی کے مثبت عوامل میں شامل کیا ہے۔جب چین کی یہ "نہ ہارنے والی جنگ” نئے مرحلے میں داخل ہوئی تو اس کی عالمی اہمیت بتدریج ظاہر ہونے لگی۔ اقوام متحدہ کے بدعنوانی کے خلاف کنونشن پر عمل درآمد کا جائزہ لینے سے لے کر بین الاقوامی تعاون کے ذریعے فرار مجرموں کی گرفتاری اور غیر قانونی اثاثوں کی بازیابی تک، چین کی عملی کوششیں عالمی انسداد بدعنوانی نیٹ ورک کا حصہ بن رہی ہیں، جو پیچیدہ اور متنوع عالمی حکمرانی کے منظرنامے میں ایک نظرانداز نہ ہونے والا حصہ ثابت ہو رہی ہیں۔

Comments (0)
Add Comment