چین کی یاسوکونی شرائن سے متعلق جاپان کے منفی اقدامات کی شدید مذمت
بیجنگ :چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے معمول کی پریس کانفرنس میں جاپانی وزیراعظم کی جانب سے یاسوکونی شرائن میں نذرانے پیش کرنے اور کابینہ کے بعض ارکان اور پارلیمان کے اراکین کی جانب سے وہاں حاضری دینے کے حوالے سے چین کا مؤقف واضح کیا۔ماؤ ننگ نے کہا کہ چین جاپان کے ان منفی اقدامات کی سخت مخالفت اور شدید مذمت کرتا ہے اور اس معاملے پر جاپان کے سامنے شدید تشویش کے ساتھ سخت احتجاج بھی کیا گیا ہے۔ یاسوکونی شرائن جاپانی عسکریت پسندی کے تحت بیرونی ممالک کے خلاف جارحانہ جنگیں چھیڑنے کا نظریاتی آلہ اور علامت ہے، جہاں جارحانہ جنگ کے سنگین جرائم کے ذمہ دار 14 اے کلاس جنگی مجرموں کی یادگاریں موجود ہیں۔ جاپانی رہنما اور سیاست دان اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں، اس کے باوجود وہاں عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کا یہ طرزِ عمل تاریخی معاملات کے بارے میں ان کی گہری جڑیں رکھنے والی غلط سوچ اور جنگی مجرموں کو بری الذمہ قرار دینے، جارحیت کو درست ثابت کرنے اور جاپان کی "دوبارہ عسکری قوت بننے” کے لیے راہ ہموار کرنے کے مذموم عزائم کو بے نقاب کرتا ہے۔ ماؤ ننگ نے کہا کہ چین ایک بار پھر جاپان پر زور دیتا ہے کہ وہ تاریخ کا سامنا کرے، اپنے جرائم پر غور کرے اور تاریخی معاملات میں رجعت پسندانہ اقدامات بند کرے، نیز عملی اقدامات کے ذریعے ایشیائی ہمسایہ ممالک اور عالمی برادری کا اعتماد حاصل کرے۔
