پریتی زنٹا نے 18 گھنٹے کام کرنے کی وجہ بتا دی
ممبئی (شوبز ڈیسک) بالی ووڈ اداکارہ پریتی زنٹا نے فلمی دنیا میں واپسی کے دوران روزانہ 18 گھنٹے کام کرنے کے حوالے سے خاموشی توڑ دی۔
51 سالہ اداکارہ نے ممبئی میں اپنی آنے والی اسپائی کامیڈی فلم ’وائب‘ کے ٹریلر لانچ کے موقع پر طویل ورکنگ آورز کے حوالے سے گفتگو کی۔
پریتی زنٹا نے بتایا ہے کہ فلم کی شوٹنگ کے دوران تقریباً روزانہ طویل شفٹ ہوتی تھی، تاہم میں نے خود 18 گھنٹے کام کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ میں اپنا کام جلد مکمل کر کے امریکا میں مقیم اپنے بچوں کے پاس واپس جانا چاہتی تھی۔
اداکارہ نے بتایا کہ کام جلد مکمل کرنے کے عزم کی وجہ سے فلم کی شوٹنگ کے دوران میں نے بھارت میں سماجی سرگرمیوں میں بھی حصہ نہیں لیا اور نہ ہی کسی کے ساتھ ملنے جلنے کے منصوبے بنائے۔
پریتی زنٹا نے وضاحت کی کہ فلم کی شوٹنگ کے دوران حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں ہوتے، کبھی بارش، کبھی بیماری اور کبھی ایکشن سے متعلق مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، میں بھارت صرف 30 سے 40 دن کے لیے آئی تھی، اس لیے میں نے طویل اوقات کار پر اعتراض نہیں کیا۔
پریتی زنٹا اگست 2026ء میں ’بٹوارا 1947ء‘ کے ذریعے بالی ووڈ میں واپس آئی ہیں جسے ’لاہور 1947ء‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، اس طرح ان کی تقریباً 8 سال بعد بڑے پردے پر واپسی ہوئی ہے، ان کی آخری تھیٹر ریلیز ’بھائی جی سپرہٹ‘ نومبر 2018ء کی فلم ہے۔
دوسری جانب فلم ’وائب‘ کو کنال کیمو نے ناصرف تحریر کیا ہے بلکہ اس کے ہدایت کار، پروڈیوسر ہونے کے ساتھ اس میں انہوں نے مرکزی کردار بھی ادا کیا ہے۔
فلم ’وائب‘ کنال کیمو کی کامیاب ہدایت کاری میں بننے والی پہلی فلم ’مدگاؤں ایکسپریس‘ کے بعد نیا پروجیکٹ ہے۔
