کانگومیں ایبولا وائرس کی سنگین ترین صورتحال

0

چینی طبی ماہرین کی تیسری کھیپ کی کانگو آمد

بیجنگ (ویب ڈیسک) ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو (ڈی آر سی) کی وزارت صحت نے یکم اگست کو اعلان کیا کہ 31 جولائی تک ملک میں ایبولا کے کل 3,674 تصدیق شدہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں 1,621 اموات بھی شامل ہیں۔ عالمی ادارہ صحت نے یکم اگست کو اپنی سرکاری ویب سائٹ پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ وبا ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں ریکارڈ کئے جانے والی ایبولا کی سب سے بڑی وبا بن چکی ہے۔

تاحال، وبا کی موجودہ قسم یعنی ” بنڈی بگیو وائرس کی کوئی منظور شدہ ویکسین یا مخصوص علاج موجود نہیں ہے اور متعلقہ تحقیقی ادارے مختلف ادویات اور ویکسین کے ٹرائلز میں مصروف ہیں ۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو (ڈی آر سی) میں وبا کے خطرے کو ” انتہائی زیادہ ” قرار دیتے ہوئے بتایا کہ وبا اب بھی بڑھ رہی ہے، تصدیق شدہ کیسز اور اموات کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اوریہ وبا ابتدائی ہیلتھ زون منگوالو سے پانچ صوبوں کے 49 ہیلتھ زونز میں پھیل چکی ہے۔ ڈابلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ مسلح تصادم، آبادی کی نقل مکانی، اور کچھ علاقوں میں طبی سہولیات کی کمی وبا کے مزید پھیلنے کا باعث ہو سکتی ہے۔ اسی روز ، ایبولا وائرس پر قابو پانے کے لیے چینی طبی ماہرین کی تیسری کھیپ ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو کے دارالحکومت کنشاسا پہنچی ۔

ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو کی وزارت صحت کے نمائندے لوکو ماریئس نے ہوائی اڈے پر چینی ماہرین کی ٹیم کا استقبال کیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں ایبولا وبا کی روک تھام اور کنٹرول کی موجودہ صورتحال بدستور سنگین ہے۔ چینی ماہرین کی ٹیم کی آمد وبائی امراض کی نگرانی، مریضوں کے علاج اور لیبارٹری ٹیسٹنگ میں کانگو کو مدد فراہم کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ کانگو اس وبا سے نمٹنے کی صلاحیت کومشترکہ طور پر بڑھانے میں چین کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.