چین اور سربیا کے درمیان دوطرفہ تجارت میں پانچ گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے، صدر سر بیا

0

بیجنگ (ویب ڈیسک) سربیا کے صدر الیگزینڈر ووچیچ نے پہلی مرتبہ چین کا سرکاری دورہ کیا اور اس موقع پر چائنا میڈیا گروپ کو ایک خصوصی انٹرویو دیا۔ ہفتہ کے روز انہوں نے کہا کہ یہ ان کے سیاسی کیریئر میں سب سے اہم دورہ ہے۔ انھوں نے چین کی جانب سے نوازے گئے "فرینڈشپ میڈل” پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ "یہ اعزاز صرف ذاتی خوشی کا باعث نہیں بلکہ مستقبل کی ایک بڑی ذمہ داری بھی ہے۔” انہوں نے کہا کہ وہ سربیا-چین دوستی کے نصب العین کے لیے خود کو وقف کرنے اور نئے دور میں سربیا-چین ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کو آگے بڑھانے کے لیے چین کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔

سربیا یورپ کا پہلا ملک ہے جس نے چین کے ساتھ مل کر نئے دور میں ایک ہم نصیب معاشرے کی تعمیر کا آغاز کیا۔ یہ جنوب مشرقی یورپ میں چین کا اہم شراکت دار بھی ہے۔ 2013 سے 2025 تک چین اور سربیا کے درمیان دوطرفہ تجارت میں پانچ گنا سے زیادہ اضافہ ہوا اور سربیا کی چین کو برآمدات تقریباً سو گنا تک بڑھ گئیں۔ سربیا پہلے یورپی ممالک میں سے ایک تھا، جنہوں نے چین کے ساتھ بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کی مشترکہ تعمیر کے لیے تعاون کی دستاویز پر دستخط کیے۔

یورپ میں چین کی جانب سے تعمیرشدہ پہلی شاہراہ، پہلا پل نیز پہلی تیز رفتار ریلوے سب سربیا میں موجود ہے۔ آج، سربیا کی اقتصادی ترقی کی شرح یورپ میں پیش پیش ہے جبکہ سربیا میں اوسط تنخواہ اس کے تمام ہمسایہ ممالک سے زیادہ ہے، اورلوگوں کا معیار زندگی نمایاں طور پر بہتر ہوا ہے۔انٹرویو کے دوران صدر ووچیچ نے کہا کہ وہ صدر شی جن پھنگ کے شکر گزار ہیں جنہوں نے ذاتی طور پر دونوں ممالک کے تعلقات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا اور سربیا کے ساتھ ہمیشہ خلوص اور احترام کا رویہ اختیار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ گہرے باہمی اعتماد کو بنیاد بنا کر سربیا-چین تعاون کی وسعت اور گہرائی کو مسلسل آگے بڑھانے اور دوطرفہ تعلقات کو اعلیٰ سطح پر فروغ دینے کے لیے تیار ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.