بیجنگ (ویب ڈیسک)چین کے قومی ادارہ شماریات نے 2026 کی پہلی سہ ماہی کے قومی معیشت کے اعداد و شمار جاری کیے۔ ابتدائی تخمینے کے مطابق پہلی سہ ماہی میں جی ڈی پی 33.4193ٹریلین یوآن رہی، جو مستقل قیمتوں کے حساب سے گزشتہ سال کے مقابلے میں 5.0 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے، جبکہ یہ شرح گزشتہ سال کی چوتھی سہ ماہی کے مقابلے میں 0.5 فیصد پوائنٹس زیادہ ہے۔پہلی سہ ماہی کے دوران اشیاء کی مجموعی درآمد و برآمد 11.838 ٹریلین یوآن رہی، جس میں سالانہ بنیاد پر 15.0 فیصد اضافہ ہوا۔ ان میں برآمدات 6.8467ٹریلین یوآن رہیں جو 11.9 فیصد بڑھیں، جبکہ درآمدات 4.9913ٹریلین یوآن رہیں جو 19.6 فیصد اضافے کی عکاسی کرتی ہیں۔”بیلٹ اینڈ روڈ” میں شامل ممالک کے ساتھ تجارت میں 14.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) میں سالانہ بنیاد پر 0.9 فیصد اضافہ ہوا، جو گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں 0.4 فیصد پوائنٹس زیادہ ہے۔ پروڈیوسر پرائس انڈیکس میں 0.6 فیصد کمی ہوئی، تاہم گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں کمی کی شرح میں 1.5 فیصد پوائنٹس کی بہتری آئی۔ملک بھر میں شہری سروے کے مطابق بے روزگاری کی اوسط شرح 5.3 فیصد رہی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے برابر ہے۔ شہری و دیہی باشندوں کی فی کس قابلِ تصرف آمدنی 12 ہزار 782 یوآن رہی، جس میں نامیاتی طور پر 4.9 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ قیمتوں کے اثرات نکالنے کے بعد حقیقی اضافہ 4.0 فیصد رہا۔ دیہی علاقوں کے باشندوں کی آمدنی میں اضافہ شہری علاقوں کے مقابلے میں زیادہ تیز رہا۔