چین اور ترکمانستان کے تعلقات میں زبردست ترقی ہوئی ہے، قومی رہنما تر کمانستان

0

دونوں ممالک کے تعلقات دو طرفہ تعاون کے اعلیٰ سطحی مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں،قربان قلی بردی محمدوف

بیجنگ (ویب ڈیسک) ترکمانستان کے قومی رہنما اور عوامی کونسل کے چیئرمین قربان قلی بردی محمدوف نے سی ایم کو ایک خصوصی انٹرویو دیا ۔ہفتہ کے روز انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات کے قیام کے گزشتہ 34 سا لوں میں چین اور ترکمانستان کے تعلقات میں زبردست ترقی ہوئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان 2013 میں اسٹریٹجک شراکت داری قائم کی گئی، اور 2023 میں ہمہ گیر اسٹریٹجک شراکت داری پر مبنی تعلقات قائم کئے گئے اور مشترکہ تقدیر کے حامل ہم نصیب معاشرے کا اعلان کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ آج چین اور ترکمانستان کے تعلقات دو طرفہ تعاون کے اعلیٰ سطحی مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔

بردی محمدوف کا کہنا تھا کہ چین ہمیشہ ترکمانستان کا سب سے بڑا اقتصادی و تجارتی شراکت دار رہا ہے۔ 2007 سے اب تک، چین اور ترکمانستان کے درمیان تجارتی حجم بیس گنا بڑھا ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ دو طرفہ تجارتی حجم ہمیشہ مستحکم رہا ہے اور اب سالانہ 9 سے 10 ارب یو ایس ڈالر تک پہنچا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ چین کے ‘بیلٹ اینڈ روڈ’ انیشی ایٹو اور ترکمانستان کی”عظیم شاہراہ ریشم کا احیاء ” قومی حکمت عملی میں گہرے انداز میں ضم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا تعاون توانائی، نقل و حمل، مواصلات، ہائی ٹیک صنعت، ٹیکسٹائل اور زراعت سمیت متعدد اہم شعبوں پر محیط ہے۔ توانائی کا شعبہ ترکمانستان-چین اسٹریٹجک تعاون کی مرکزی سمت ہے، اور اس میں زبردست تعاون کی صلاحیت موجود ہے۔

اس وقت، ترکمانستان اور چین بڑے پیمانے پر نقل و حمل اور لاجسٹک انفرا اسٹرکچر کے منصوبوں کی ترقی کے لیے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں جس سے پیسفک سے اٹلانٹک تک وسیع جغرافیائی دائرے پر رابطے میں مزید استحکام آئے گا اور پورے یوریشیا کی معاشی ترقی کو مضبوط توانائی فراہم ہوگی ۔بردی محمدوف کا کہنا تھا کہ صدر شی جن پھنگ کی قیادت میں، چین نے ہر شعبے میں نمایاں اور شاندار کامیابیاں حاصل کی ہیں، اور چین دور اندیشی کے ساتھ مستقبل کی ترقی کے نقشے بنا رہا ہے۔

چین اور ترکمانستان کے تعلقات کے امکانات وسیع ہیں اور مستقبل روشن ہے کیونکہ دو طرفہ تعاون مسلسل مستحکم رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے، اور اس کی منصوبہ بندی اگلی کئی دہائیوں کو مدنظر رکھ کر کی جارہی ہے۔ دونوں فریق سمجھتے ہیں کہ ہمارے پاس زبردست تعاون کی صلاحیت موجود ہے، جسے مکمل طور پر بروئے کار لانا اور ان کا مؤثر استعمال ضروری ہے، تاکہ دونوں ممالک اور ان کے عوام کے مشترکہ مفاد کو ممکن بنایا جا سکے ۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ چین دنیا کی سلامتی اور پائیدار ترقی کا ایک اہم ستون ہے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.