چین میں ہیومنائیڈ روبوٹس سے متعلق پیٹنٹس کی مجموعی تعداد 32 ہزار سے تجاوز کر گئی
بیجنگ (ویب ڈیسک)2026 کے سی ایم جی اسپرنگ فیسٹیول گالا میں، چار چینی کمپنیوں کے انسان نما روبوٹس نے نہ صرف مارشل آرٹ کا مظاہرہ کیا، بلکہ دیگر پروگراموں میں مکالمے بولنے، کپڑے تہہ کرنے، اور انسانی اداکاروں کے ساتھ ہم آہنگی سے پرفارم بھی کیا، جس پر بیرون ملک نیٹیزنز نے حیرت اور بھرپور داد کا اظہار کیا۔ٹیکنالوجی سے متعلق سوشل میڈیا اکاؤنٹ "سائبر روبو "نے یونی ٹری روبوٹکس کے ہیومنائیڈ روبوٹ مارشل آرٹس پروگرام کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے اسے ” اعلیٰ ترین” قرار دیا۔
ریڈٹ پر موجود ٹیک بلاگر اوون لیوس نے کہا کہ اب تو "روبوٹ اولمپکس” منعقد ہونے چاہئیں کیونکہ چینی روبوٹس عالمی معیار بن چکے ہیں۔ سوئس اے آئی ماہر ڈومینک گورکی نے عالمی روبوٹکس پاور ہاؤس بننے پر چین کی تعریف کی۔ ایک نیٹیزن تھائی لی بینگ نے تبصرہ کیا کہ ہالی ووڈ صرف فلمیں بنا سکتا ہے جبکہ چین کے پاس انہیں حقیقت میں بدلنے کی صلاحیت موجود ہے۔عالمی میڈیا اداروں نے سی ایم جی اسپرنگ فیسٹیول گالا سے متعلق نشریات اور رپورٹس کو وسیع پیمانے پر شائع کیا اور کوریج دی ۔
ہیومنائیڈ روبوٹس کی شاندار پرفارمنس نے رائٹرز، برطانوی دی انڈیپنڈنٹ، دی ایسوسی ایٹڈ پریس، بزنس انسائیڈر اور اسپین ایل ایسپینول سمیت متعدد ممالک کے مین اسٹریم میڈیا کی توجہ حاصل کی،رائٹرز کی رپورٹ میں کہا گیا کہ روبوٹس کے دوڑنے، ٹانگوں کے کرتب دکھانے اور پلٹا کھانے جیسے مناظر کے پیچھے دراصل چین کی وہ حکمت عملی ہے جس میں روبوٹ ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کو ” اے آئی پلس مینوفیکچرنگ” کے مرکز میں رکھا گیا ہے۔
اب تک چین میں ہیومنائیڈ روبوٹس سے متعلق پیٹنٹس کی مجموعی تعداد 32 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، جو عالمی مجموعے کا تقریباً 68 فیصد بنتی ہے، جبکہ اہم پرزہ جات میں مقامی پیداوار کی شرح 75 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی واضح عکاسی کرتے ہیں کہ چینی اسمارٹ مینوفیکچرنگ نے "پیروی” کے مرحلے سے نکل کر "قیادت” کے تاریخی مرحلے میں قدم رکھ لیا ہے۔ سی ایم جی اسپرنگ فیسٹیول گالا کے ذریعے، چین کی روبوٹ صنعت اپنی اختراعی صلاحیت اور مسلسل آگے بڑھنے کی قوت کا اظہار کر رہی ہے اور دنیا کو مشرقی ذہانت کی رفتار اور محرک دونوں دکھا رہی ہے۔